حوزہ نیوز ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق،لڈوا/ ضلع مظفر نگر یوپی میں 9 محرم الحرام 1448ھ کی مجلسِ عزا سے خطاب کرتے ہوئے مولانا سید رضی حیدر پھندیڑوی نے کہا کہ واقعۂ کربلا صرف ایک تاریخی سانحہ نہیں بلکہ ہر دور کے انسان کے لیے ایک زندہ درس اور عملی پیغام ہے۔ انہوں نے کہا کہ شمر بن ذی الجوشن کا کردار تاریخ میں ظلم، دنیا طلبی اور سوء عاقبت کی علامت بن چکا ہے۔
مولانا نے بیان کیا کہ شمر کبھی حضرت علی علیہ السلام کے لشکر میں بھی موجود تھا، لیکن حق پر ثابت قدم نہ رہ سکا۔ انہوں نے کہا کہ صرف کسی مقدس شخصیت کے ساتھ رہنا یا ظاہری عبادت کرنا انسان کی نجات کی ضمانت نہیں، بلکہ آخری وقت تک حق و صداقت پر قائم رہنا ہی اصل کامیابی ہے۔
انہوں نے کہا کہ کربلا میں شمر لشکر کا سپہ سالار نہیں تھا بلکہ وہ عبید اللہ ابن زیاد کا نمائندہ بن کر آیا اور اس نے عمر بن سعد پر جنگ کے لیے دباؤ ڈالا۔ مولانا نے کہا کہ شمر کی زندگی اس حقیقت کو واضح کرتی ہے کہ اقتدار، دنیا کی محبت اور ذاتی مفادات انسان کو حق کے مقابل لا کھڑا کرتے ہیں۔
مولانا سید رضی حیدر پھندیڑوی نے کہا کہ آج کے معاشرے میں بھی انسان کو اپنے کردار کا جائزہ لینا چاہیے، کیونکہ اگر کوئی شخص انصاف، سچائی اور حق کا ساتھ چھوڑ کر ذاتی مفادات، عہدے اور دنیاوی خواہشات کو ترجیح دیتا ہے تو وہ عملی طور پر شمر کی فکر کے قریب ہو جاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کربلا کا سب سے بڑا پیغام یہ ہے کہ انسان اپنے انجام سے غافل نہ ہو کیونکہ تاریخ نے یہ دکھایا کہ صفین میں موجود ایک شخص عاشورا میں امام حسین علیہ السلام کا قاتل بھی ہو سکتا ہے۔
مجلس کے اختتام پر مولانا نے سامعین کو امام حسین علیہ السلام کی سیرت، حق و انصاف کی حمایت اور معاشرے میں اخلاقی و انسانی اقدار کے فروغ کی تلقین کی۔









آپ کا تبصرہ